تعارف

معہد اللغہ العربیہ (انسٹی ٹیوٹ آف عریبک لینگویج) اسلام آباد گزشتہ 30 سال سے وطن عزیز پاکستان میں قرآن کریم اور رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب زبان 'عربی ' کی ترقی واشاعت کیلئے سرگرم عمل منفرد ادارہ ہے، جس کا نام ہی اسکا پیغام اور اسکا مشن ہے۔ خالصتا فلاحی اور غیر تجارتی بنیادوں پر قائم یہ انسٹی ٹیوٹ ہر قسم کی فرقہ واریت اور جماعتی تعصبات سے بالاتر ایک ملی اور قومی ادارہ ہے جو وطن عزیز میں معاشرے کے ہر طبقہ میں عربی زبان کی ترقی اور ترویج کیلئے شاندار اور منفرد پروگرام رکھتا ہے۔

عربی زبان سے بے لوث محبت اور اس کیلئے مسلسل محنت ہی معہد اللغہ العربیہ سے وابستہ اساتذہ، ملازمین اور طلبہ وطالبات کا سرمایہ افتخار ہے اس محبت اور محنت کی ایک وجہ تو انسٹیٹیوٹ کے بانی جناب مولانا محمد بشیر کی تربیت اور دوسری وجہ انسٹیٹیوٹ کے ہر کارکن کا یہ یقین ہے کہ فرقہ واریت اور فتنوں کے اس پرآشوب دور میں عربی زبان ہی صحیح اسلامی عقائد اور تعلیمات سے آگاہی کیلئے سب سے بہترین اور واضح راستہ ہے اور اگراستعمار اس خطے کے باسیوں کو اپنے رنگ میں رنگ سکتا ہے تو ہم عربی کے ذریعے ہر مسلمان کا تعلق قرآن کریم سے کیوں نہیں جوڑ سکتے!!

1980 ميں قائم ہونے والے اور حکومت پاکستان کے ہاں باقاعدہ رجسٹرڈ اس انسٹی ٹیوٹ کے مختصر مدتى (شارٹ کورسز )اور طويل مدتى تعليمى پروگراموں سے ایک طرف جہاں اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری مستفید ہورہے ہیں وہیں اس ادارے کی طبع کردہ کتابوں سے ملک بھر کے مدارس، جامعات ، اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز میں ہزاروں طلبہ وطالبات عربی سیکھتے ہیں۔ آن لائن عربی کورسز کی بدولت انسٹیٹیوٹ کا دائرہ کار بیرون ملک بھى پھیل چکا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے ايك سیکشن میں میٹرک سے ایم تک مکمل دینی اور عصری تعلیم دی جاتی ہے جس كے بعد یہ طلبہ وطالبات آگے چل کر عربی ، اسلامیات، شریعہ اینڈ لاء اور دیگر ميدانوں میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وزارت تعلیم، وزارت خارجہ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، ماڈل کالجز، سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں ا نسٹیٹیوٹ کے فارغ التحصيل سابقہ طلبہ وطالبات کی نمایاں تعداد مختلف پوزیشنوں پر فرائض سرانجام دے رہی ہے۔